طب نبویﷺمیں اسہال (دست) کا طریقہ علاج

طب نبویﷺمیں اسہال (دست) کا طریقہ علاج

. صحیحین میں ابومتوکل کی حدیث جو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے بھائی کے شکم میں تکلیف ہے ایک روایت میں ہے کہ دست ہور ہے ہیں آپ نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ“۔ وہ گیا اور واپس آ کر اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا مگر کوئی نفع نہیں ہوا دوسری جگہ ہے کہ اس کے پلانے سے دستوں میں زیادتی ہوئی یہ بات دو یا تین مرتبہ کے تکرار سے پیش آتی رہی اور آپ ﷺ اسے شہد پلانے کا م کر تے رہے تیری باری اچھی بار چوتھی بار یہ نوبت آئی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کا کہا سچ ہے تیرے بھائی کا شکم جھوٹا ہے۔

صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں کہ (ان اخی عرب بطنه)) یعنی اسے فساد ہضم ہو گیا ہے اور اس کا معدہ بیمار ہوگیا۔ عرب را کے زبر کے ساتھ ذرب بھی مروی ہے جو فساد معدہ کے معنی میں آتا ہے۔

شہد غیر معمولی منافع کی حامل ہے ان گندگیوں کو جو معدہ یا عروق و آنت میں پیدا ہو جاتی ہیں صاف کر دیتی ہے۔ رطوبات کے لیے کلکل ہے, خواہ اکلا ہو یا ضما دا بڈھوں کے لیے اور جنہیں بلغم کی پیداوار ہو یا اس کا مزاج بار در طب ہو یا سرد وتر ہو اس میں غذائیت بھر پور ہے, پاخانہ نرم کرتی ہے معجون کے لیے اور اس میں شامل کی جانے والی دواؤں کے لیے نگران قوت ہے اسے عرصہ تک بگڑ نے نہیں دیا , نا پسندیدہ ذائقہ کی دواؤں کے ذائقہ کو بہتر کر دیتا ہے, اس کی مضر کیفیات کو دور کرتا ہے, جگر اور سینے کو صاف کرتی اور نکھارتی ہیں, پیشاب لاتا ہے, بلغمی کھانسی کو درست کرتا ہے , اگر روغن گل کیساتھ گرم گرم استعمال ہوتو کیڑوں مکوڑوں کے ڈنک کے لیے دافع ہے, افیون کھانے والے کی سمیت کم کرتا ہے اور اگر صرف شہد کو پانی میں ملا کر پلائیں تو باؤلا کتے کے کاٹے کو نفع دیتا ہے زہریلی نبات( دھرتی کے پھول سانپ کی چھتری کی ایک قسم) کے کھانے کا اثر زائل کرتا ہے

اگر تازہ گوشت شہد میں ڈبو کر رکھ دیا جائے تو تین مہینے تک متعفن نہیں ہو سکتا, اگر گھیرى, ککڑی , کدو, بینگن, اور دوسرے تازہ پھل اس میں رکھے جائیں تو چھ ماہ تک عمدہ بہتر حال میں رہتے ہیں, اور مردار کے جسم کو عفونت سے روکتا ہے۔

شہد کو حافظ, امین, نگران, امانت دار کہتے ہیں اگر جوں دار جسم اور بالوں میں لگایا جائے تو جوں اور لیکھ کر مار ڈالتا ہے بالوں کو بڑھاتا اور زیب دیتا ہے اس میں نرمی اور ملائمت پیدا کرتا ہے۔اگر اس کو پر آنکھوں میں لگایا جائے تو دھند کے لیے نافع ہے اور اگر دانتوں میں پیسٹ کیا جائے تو والوں پر چک اور سفیدی پیدا کرتا ہے, دانتوں کی حفاظت کرتا ہے , مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے رگوں کا منہ کھولتا ہے, ایام کا خون اچھی طرح سے بہتا ہے اور آنے لگتا ہے۔

نہار منہ کھانے سے بلغم ختم ہو جاتا ہے, معدے کےخمل کو غسل دے کر صاف کر دیتا ہے, اور معدہ سے فضلات نکالتا ہے, معدہ کو معتدل گرمی پہنچاتا ہے, معدہ کا سدہ کھولتا ہے ,اس طرح جگر ,گردے ,مثانہ کے سدے بھی کھولتا ہے, اورتلی و جگر کے سدوں کو شیرینی کی مضرت سے ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ان سب کے ہوتے ہوۓ مضرتوں سے محفوظ نقصان سے خالی صفراوی مزاج کے لیے عارضی طور پر نقصان دہ جو سرکہ اور دوسری ترشی سے کم ہو جا تا ہے بلکہ اس کے ساتھ اس کا نفع بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

شہد غذا کے موقع پر غذا دوا کے وقت دوا اور شربت کی جگہ شربت ہے, عمدہ قسم کی شیریں اعلی درجہ کا طلاء اور نادر قسم کا مفرح ہے چنانچہ قدرت نے ان تمام منافع کی حامل کوئی چیز اس کے سوانہیں بنائی نہ اس سے بہتر نہ اس جیسی نہ اس سے لگا کر کھانے والی , اور قدماء کا دستور علاج شہد ہی رہا ہے اس پر ہی سارا علاج گھومتا تھا بلکہ قد ما کی کتابوں میں تو شکر کا کہیں پتہ تک نہیں ,صدیوں لوگ اس کا نام بھی نہ جانتے تھے , بلکہ شکر تو آج کی پیداوار ہے, اور نبی اکرم ﷺ نہار منہ پانی ملا کر پیا کرتے تھے, اور یہ ایسا جگر دارنسخہ ہے جو صحت کے لیے کیمیا کا کام کرتا ہے, اسے بڑے زیرک اور با ہوش فاضلین ہیں جان سکتے ہیں ۔

ابن ماجہ میں یہ حدیث موجود ہے جس کو حضرت ابو ہریرہ نے مرفوعا روایت کیا ہے۔ «من لعق العسل ثلاث غدوات كل شهر لم یصبہ عظیم من التلاواجس نے شہد کی چسکی تین روز سویرے سویرے ہر مہینے لینے کا طریقہ اختیار کیا تو اسے کوئی بڑی بیماری نہ ہو سکے گی۔اور ایک دوسرے اثر میں ہے: «عليكم بالشفاثین العسل والقرآن)تم دوشافی دواؤں سے شفا حاصل کر شہد اور قرآن سے“۔

اس اثر میں طب انسانی اور طب الہی دونوں کو یکجا کر دیا گیا ہے, طب ابدان وطب ارواح معالجہ ارضی اور معالجہ سماوی غرض دونوں طریقہ علاج اس میں موجود ہیں۔ان خصوصیات کے علم کے بعد یہ سمجھئے کہ اس علاج میں رسول اللہ ﷺ کا نسخہ مریض کے اسہال تخم کے لیے تھا ,جو امتلاء معدہ کی بنیاد پر پیدا ہو گیا تھا , چنانچہ آپ نے شہد کا استعمال ان فضولات کو نکالنے کے لیے تجویز فرمایا تھا جو معدہ آنتوں میں پھیلا ہوا تھا۔شہد سے اس میں جلا ہوتی اور فضولات کا خاتمہ ہوتا اور معدہ میں اخلاط لزجہ پوری طرح مسلط تھے غذا کا وہاں رکھنا بوجہ از وجت کے مشکل تھا اس لیے کہ معدہ میں روئیں ہوتے ہیں ,

 

جیسے ا روئی کے پتے کی روئیں جن میں چمٹنے والے اخلاط لگ جاتے ہیں تو معدہ کو فاسد کر دیتے اور غذا سے معدہ فاسد ہو جاتا ہے اس لیے اس کا علاج اس انداز سے ہونا چا ہیے کہ وہ اخلاط لزجہ ان رویوں سے صاف ہو جائیں اور شہد سے یہ چیز ممکن ہے شہد ہی اس کا بہترین علاج ہے۔ یہ مرض شہد سے جاسکتا ہے , بالخصوص اگر شہد کے ہمراہ تھوڑ اسا گرم پانی ملا دیا جائے۔آپ کا بار بار شہد کا استعمال کرنا ایک نادر طریقہ علاج تھا ,اس لیے کہ دوا کی مقدار اس کے استعمال کا تکرار مرض کی سقامت کو دیکھ کر ہی کی جاتی نے , اگر مرض کے تناسب سے اس میں کمی ہے ,تو مرض پوری طرح زائل نہ ہوگا اور اگر مقدار یا دوا کے استعمال کی باری زائد ہو جاۓ تو اس کی قوت یا بار بار کے استعمال سے دوسرے نقصان کا اندیشہ متوقع ہے,

 

اس لیے آپ نے اسے شہد کا استعمال تجویز کیا اس نے اتنی مقدار پلایا جو مرض ختم کرنے کے لیے کافی تھی اور مقصود حاصل نہ تھا جب انہوں نے آپ کو مرض کی کیفیت بتائی تو آپ نے سمجھ لیا کہ دوا مرض کے تناسب سے نہیں کھلائی گئی جب انہوں نے آپ کے علاج پرشکوہ کیا تو آپ نے اس تکرار شکوہ پر مریض کو مزید شہد پلانے کی ہدایت کی تا کہ بیماری کو اکھاڑ پیکھنے کی حد تک شہد کی مقدار پہنچ جائے۔ جب بار بار کی تکرار سے دوا کے مشروب کی مقدار مادہ مرض کی مقاومت کی حد تک پہنچ گیا تو بیماری فضل الہی سے جاتی رہی ۔دوا کی مقدار اس کی کیفیات اور مرض و مریض کی قوت کا لحاظ رکھ کر علاج کرنا فن طبابت کا اہم ترین کلیہ ہے۔ بغیر اس کے علاج ناتمام رہتا ہے۔اور رسول اللہﷺ کا فرمان ﴿ صدق الله و کذب بطن اخیک ﴾ میں اس دوا کے نفع کا یقینی ہوا بیان کرنا مقصود ہے۔ بیمار دوا کی کمی یا خرابی کی بنیاد پرنہیں ہے بلکہ معدہ کے صحیح طور پر کام نہ کر نے , دوا کو کثرت ماده فاسدہ کی وجہ سے قبول نہ کرنے کی وجہ سے زوال مرض نہ ہورہا تھا اس لیے آپ نے بار بار اس کا اعادہ کرایا تا کہ مادہ کی کثرت میں نافع ہو۔

 

آپ کا طریق علاج دوسرے اطباء کے طریقہ علاج سے کوئی نسبت نہیں رکھتا اس لیے کہ ہمارے رسول ﷺ کی طب تو متقین اور قطعی ہے, اسے اللہ کی تلقین اور الہام سمجھنا چا ہیے۔ آپ کا علاج وحی الہی تھا, نبوت تھا, نبوت کی روشنی اور کمال عقل پر موقوف تھا بر خلاف دوسرے اطبا کا علاج عموما طبیعت کی رسائی ظن غالب تجر بہ پر موقوف ومنحصر ہے۔ نبوت کے ذریعہ علاج کے نافع نہ ہونے کا انکار بمشکل کوئی کر سکا, ہاں اس علاج کے نافع ہونے کا یقین اور پوری عقیدت سے اس علاج کو تسلیم کرنا اور اس کے شفاء کامل ہونے کا اعتقاد اور پورے یقین کے ساتھ اس کو قبول کر نا بھی ضروری ہے۔ قرآن جو سینوں کی بیماری کے لیے شافی ہے, جو اس کو اس یقین کے ساتھ نہ قبول کرے گا۔ اسے اس کی دواؤں سے شفا عاجل وکامل کیسے ہوگی , بلکہ جن کے دلوں میں کھوٹ ہے ان کو یقین نہیں ہے ان میں گندگی پر گندگی آلائش پر آلائش بیماری پر بیماری بڑھتی جاتی ہے۔ پھر انسانی جسم کا علاج قرآن سے کیونکر ممکن ہوسکتا ہے۔ طب نبوت تو انہی کے لیے سودمند ہوتی ہے جو پاک اور ستھرے بدن کے لوگ ہوں گے, اسی طرح شفاء قرآنی بھی ارواح طیبہ اور زندہ دلوں کے لیے شفاء ہے۔ اس لیے جو طب نبوت کے منکر ہیں وہ قرآن سے کیسے شفاء پاسکتے ہیں۔ اگر کچھ فائد ہ انہیں ہو بھی گیا تو وہ بلا ان شرائط کی تکمیل کے مکمل شفاء نہ ہوگی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ علاج اور دوا میں کوئی نقص اور کوتاہی ہے بلکہ خود استعمال کیے    جانے والے جسم میں استفادہ کی صلاحیت بوجہ خبث باطن کی نہیں ہے۔ دوا سے شفا خبث طبیعت اور محل فاسد اور قبول کاسد کی وجہ سے نہیں ہے

Write a Reply or Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *