بیماری پر صبر کرنے کی فضیلت

 يأيها الذين امنوا استعينوا بالصبر و الصلوة إن الله مع الصبرين . و لا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات بل أحياء و لكن لا تشعرون ) ولنبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص من الأموال و الأنفس و الثمرات وبشر الصبرين ﴾ [البقرة: 153 تا 155] ”

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور ان کو جو اللہ کے راستے میں قتل کیے جائیں، مردے مت کہو، بلکہ زندہ ہیں اور لیکن تم نہیں سمجھتے ۔ اور یقینا ہم تمھیں خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔“

اور یہ بھی ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: « ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب ولا هم ولا غم حتى الشوكة يشاكها إلا كفر الله بها من سيئاته ؟
مسلمان کو جو بھی تھکان، درد، رنج وغم اور ملال پہنچتا ہے حتی کہ اس کو اگر کانٹا بھی چبتا ہے تو اللہ تعالی ان کے بدلے اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔“

اسی طرح سنن ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا وإذا أراد إذا أراد الله .بعبده الشر أمسك عنه بذنبه حتى يوافي به يوم القيامة؟
جب اللہ تعالی اپنے بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے فوراً (جلدی) دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے، اور جب وہ اپنے بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہ کی سزا کو روک دیتا ہے، حتی کہ قیامت کے دن وہ اسے اس گناہ کی سزا دے گا۔“

 

نیز آپ ﷺ نے فرمایا: « إن عظم الجزاء مع عظم البلاء وإن الله إذا أحب قوما إبتلاهم فمن رضي فله الرضا ومن سخط فله الشخط ؟ ”

یقینا شاندار جزا بڑی آزمائش کے ساتھ وابستہ ہے۔ جب اللہ تعالی کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے، لہذا جو شخص اس ( آزمائش) پر راضی رہا تو اس کے لیے (اللہ کی) رضا اور خوشنودی ہے اور جو شخص اس پر ناراض ہوا، اس کے لیے (اللہ کی ناراضی اور غصہ ہے۔“

آپ ﷺ نے مزید فرمایا: « لا يزال البلاء بالمؤمن حتى يمشي على الأرض وليس عليه خطيئة»
مومن آزمائش میں مبتلا رہتا ہے، حتی کہ وہ زمین پر اس حال میں چل رہا ہوتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔“نبی اکرم ﷺ نے مومن کو اس کچھی اور نا پختہ کھیتی سے تشبیہ دی ہے جس کو ہوا دائیں اور بائیں مائل کرتی ہے، یعنی مومن کو اپنی زندگی میں کثرت امراض، آفات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

 

آپ ﷺ نے فرمایا:
* أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل يبتلى الرجل على قدر دينه، فإن كان في دينه صلابة شدد عليه وإلا خفف عنه

لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر جو ان کی مثل ہوں، پھر جو ان کی مثل ہوں ، آدمی اپنے دین کے مطابق ہی آزمایا جاتا ہے، پھر اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتو اس کی آزمائش بھی ملکی ہوتی ہے۔“

 

ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ میں آپ ﷺ سے محبت کرتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: « إن كنت صادقا فأعد للبلاء تجفافا فإن البلاء أسرع إلى من يحبني من السيل إلى منحدره ؟ ”اگر تم اپنے اس دعوی محبت بچے ہو تو آزمائش کے لیے تیاری کر لو کیونکہ جوشخص مجھ سے محبت کرتا ہے تو وہ اتنی جلدی آزمائش میں مبتلا ہو جا تا ہے کہ اتنی جلدی سیلاب کا پانی بھی نشیبی علاقے میں نہیں پہنچتا۔“
(ابن جبرين: الفتاوى الشرعية في المسائل الطبيه: 8/1)

Write a Reply or Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *