اپنے بندوں کو آزمائش اور مصائب میں مبتلا کرنے میں اللہ رب العزت کی حکمت

اپنی مخلوقات میں اللہ تعالی کی جو حکمتیں پوشیدہ ہیں، ان کے متعلق پورا علم اور واقفیت حاصل کرنا ممکن نہیں ہے، ان میں سے بعض حکمتوں کو ہم سمجھ جاتے ہیں، جبکہ کئی چیزوں کی حکمتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہیں، لیکن ہمارا اس بات پر ایمان ہے اور ہم یقین و وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یقینا اللہ تعالی کا ہر فعل کامل حکمت و دانائی کی بنیاد ہی پر ہوتا ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی بےکار و بے فائدہ کام کرنے سے پاک اور مبرا ہے۔ رہی کافر کو لاحق ہونے والی مصیبتیں تو وہ اس کے کفر اور گناہوں کی سزا کے طور پر ہوتی ہیں،

چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:{ و لنذيقنهم من العذاب الأدنى دون العذاب الأكبر لعلهم يرجعون} [السجدة:۲۱ ]

”اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تا کہ وہ پلٹ آئیں۔“ نیز اللہ تعالی نے فرمایا:

وإن للذين ظلموا عذابا دون ذلك» [الطور : ۴۷ ]

اور یقیناً ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، اس (آخرت سے پہلے بھی ایک عذاب ہے ۔

رہیں وہ مصیبتیں اور تکلیفیں جو چھوٹے بچوں کو پہنچتی ہیں تو وہ ان کے آباء و اجداد کو سزا دینے اور آزمائش میں مبتلا کرنے اور اسی طرح کی دیگر مصلحتوں کے لیے ہوتی ہیں تا کہ ان کا صبر کرنا اور اس صبر پر ثواب کی توقع رکھنا ظاہر ہو سکے۔ ایسے ہی جانوروں اور چوپایوں کو جو تکلیفیں آتی ہیں، ان کا مقصد بھی ان کے مالکوں کو سزا دینا اور آزمائش میں مبتلا کرنا ہوتا ہے۔

ارشاد خداوندی ہے: و لتبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص من الأموال و الأنفس و الثمرات وبشر الصبرين ” الذين إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله وإنا إليه راجعون [البقرة: ۱۵۵ , ۱۵۶ ]

”اور یقینا ہم تمھیں خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو ۔ وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ (الفوزان : المنتقی: ۱ / ۳۴۹)

Write a Reply or Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *